سیالکوٹ میں دو انسانی جانوں کے ساتھ کھیلا جانے والا کھیل پاکستان کی تاریخ کاایک اور گھناؤنا اور قبیح عمل ہے۔ کچھ عرصہ قبل گوجرانوالہ میں ایک حافظ قرآن کو توہین قرآن کے خود ساختہ شبے میں اسی طرح گلیوں اور بازاروں میں شہید کیا گیاتھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بے گناہ کچھ لوگوں کی آتش انتقام کا نشانہ بنا اور سارے شہر نے مل کر اس کے قتل میں ازراہِ ثواب حصہ لیا۔ ان دونوں بھائیوں کے اندوہناک قتل نے ایک مرتبہ پھر اس حافظ قرآن کی یادیں تازہ کر دیں۔ دونوں واقعات میں جغرافیائی فاصلہ زیادہ نہیں، چند برسوں کا فاصلہ ضرور تھا جسے لوگوں کی بہیمیت اور درندگی نے ختم کر دیا۔
دونوں بھائی کون تھے، کس کے لخت جگر تھے، کہاں کے رہنے والے تھے، یہ سب باتیں میڈیا نے بہت خوب بیان کر دیں، لیکن جس طریقے سے ان کو شہید کیا گیا، اسے چند لوگوں کا انفرادی فعل ہی نہ کہیے، معاشرے میں بڑھتے عدم برداشت کے کلچر کی ایک نشانی کہیے، خطرے کی گھنٹی کہیے۔ جنگل کے قانون کی مکمل عمل داری کہیے۔ بلکہ ایسا کہنا شاید جنگل کے قانون کی بھی توہین ہو کہ جہاں ہر جانور اپنی حدود میں رہتا ہے، انسان نے سب حدیں پھلانگ لیں۔ کسی طرح سے بھی، کسی قانون، اخلاقی نظام، کسی جواز کے بغیر دو بھائیوں کو بے دردی سے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ یقینا مارنے والے نعرے بھی لگا رہے ہوں گے کہ پولیس کی موجودگی میں انہوں نے ڈاکو مار ڈالے، لیکن کس نے پوچھا، کس نے جاننا چاہا کہ وہ دونوں بے گناہ تو پکارتے رہے کہ ہماری بھی سنو، ہم وہ نہیں جو تم سمجھے ہو، لیکن کسی نے کان نہ دھرے۔
کچھ عرصہ ہوا کراچی میں دو ڈاکو اسی طرح سے لوگوں نے مار ڈالے تھے، کسی نے تب بھی نہ پوچھا، کوئی انکوائری نہیں ہوئی، کسی نوعیت کا جوڈیشل عمل نہ ہوا کہ وہ تھے کون، مارنے والوں نے انہیں کیوں مارا۔ کیا محض یہ نعرہ لگا دینا کافی ہے کہ فلاں ڈاکو ہے، اسے مارو۔ اس ملک میں تو ڈاکوؤں کی کمی نہیں۔ دنیا آج سیلاب زدگان کو امداد دینے کے لیے تیار نہیں، لیکن صاف کہہ رہی کہ ڈاکوؤں کو نہیں دیں گے۔ این جی اوز کو دیں گے، عالمی اداروں کے ذریعے دیں گے، لیکن براہِ راست نہیں دیں گے۔ انہیں کوئی کیوں نہیں پوچھتا کہ دنیا میں تمہارا تعارف آج پاکستان کے گلے کی پھانس بن گیا ہے۔ اب انہی سے ان دو بھائیوں کے اس قتل کی منصفانہ تحقیقات کی امید کی جائے تو اس سے بڑی حماقت اور کیا ہو گی۔ یہاں تو عالم یہ ہے کہ پنجاب کے دوبڑوں کی روایتی اور غیر اخلاقی جنگ نے اسے بھی نہیں بخشا اور الزامات اور صلوات سنانے کے سوا ان کو کچھ کام نہیں۔ کسی نے پنجاب پولیس کے ذمہ داران سے دریافت کیا کہ عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے از خود نوٹس سے پہلے انہوں نے خود نوٹس کیوں نہ لیا۔ ڈی پی او سیالکوٹ کو تحفظ دینے والے کس کے لاڈلے تھے۔ کون دریافت کر رہا ہے کہ سیالکوٹ سے رکن اسمبلی اور رکن کابینہ انصاف کے کون سے تقاضے پورے کرنا چاہتی ہیں۔ بے حسی اور طرف داری حد سے گزر جاتیں تو ظلم بن جاتی ہیں۔اب یہی عالم دکھائی دے رہا ہے کہ مجرموں کی پشت پر وہ کھڑے ہیں جن کے ہاتھ میں قانون کی تلوار ہے۔
ہم سب کو اس بارے میں بھی غور کرنا چاہیے کہ انسان کا قتل انسانیت کا قتل ہے۔ کسی تحقیقاتی عمل کے بغیر، کسی ثبوت کے نہ ہوتے ہوئے اور محض قیاس کو بنیاد بنا کر فیصلے صادر نہیں کیے جا سکتے۔ سیالکوٹ میں لوگوں نے یہی کچھ کیا۔ بے گناہوں کو کسی اور قربانی کا نشانہ بنایا گیا۔ عدلیہ اب اس کا نوٹس لے رہی ہے تو وہ یہ بھی دیکھے کہ قانون کے نفاذ کے ذمہ داروں کو بچانے والے کیا کر رہے ہیں، تحقیقات میں کہیں جھول نہیں آنا چاہیے، بہتر ہو گا کہ اعلیٰ عدلیہ کے کسی ایسے فاضل رکن سے تحقیقات کرائی جائیں جنہیں مجرمانہ معاملات کی سوجھ بوجھ ہو، باقاعدہ عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ کم وقت میں فیصلہ ہو سکے۔
حکومت وقت، خواہ وفاق میں ہو یا کسی بھی صوبے میں، اس کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے اندر بڑھتی مایوسی کو محسوس کریں۔ یہ احساس محض اس لیے ہی ضروری نہیں کہ اس طرح کسی نظامِ حکومت کے خلاف عام احتجاج کی پیش بندی کی جائے بلکہ یہ اس لیے ضروری ہے کہ عوام کا کرب اور اس کی مشکلات کے حل کا راستہ تلاش کیا جائے۔ چوروں اور ڈاکوؤں کو بروقت اور منصفانہ عمل سے سزا دی جائے تاکہ یہ احساس عام ہو سکے کہ انصاف ہو رہا ہے۔ عدالتی اور تفتیشی عمل کو زیادہ شفاف بنایا جائے تاکہ عدالت اور پولیس تک جانے کا خوف دور ہو سکے اور لوگ خود معاملات طے کرنے کے بجائے قانون پر اعتماد کریں۔ معاشی پالیسیوں میں ملکی مفاد کو اہمیت دی جائے اور ان میں تسلسل لایا جائے تاکہ عام آدمی کو یہ یقین ہو سکے کہ اس کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی، اسے اس کی محنت کا پھل ضرور ملے گا۔
ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدلیہ اس گھناؤنے جرم کے کسی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑے گی۔ سب سے پہلی ضرورت قتل کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے اور ان کو قرار واقعی سزا دینا ہے۔ ہم جماعت اسلامی کے ہر کارکن، پاکستان کے ہر شہری اور ان دونوں شہیدوں کے والدین کی طرف سے اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ پولیس کو من مانی اور ارکانِ اسمبلی کو مجرموں کی طرف داری کرنے نہیں دی جائے گی۔ ان شہیدوں کے والدین سے ہم سب کو نہ صرف ہمدردی ہے بلکہ ہم سب کی دعاؤں اور رب عالی شان سے مغفرت کی توقعات ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہیدوں کو اعلیٰ درجہ دے اور ان کے والدین اور عزیزوں کو صبر جمیل دے۔ پاکستان کا سافٹ امیج ابھارنے والوں کو اس کریہہ عمل پر نادم ہونے کا موقع دے جو نام نہاد تعارف کراتے کراتے انصاف بھی کرنے کے قابل نہیں رہے۔






