وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع بیرونی دباؤ پر نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تسلسل اور خطہ میں استحکام کے لیے کی ہے۔ صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری (چار بڑوں) کی 2013ء تک پوزیشن محفوظ ہو گئی۔ سب کو آئین کے دائرہ کے اندر رہ کرکام کرنا چاہیے۔
جناب وزیراعظم نے دو وجوہات کی بناء پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع کا فیصلہ کیا ہے ان کے بیان کے مطابق پہلی وجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تسلسل اور دوسری وجہ خطہ میں استحکام ہے۔ دوسری وجہ پہلی وجہ کا ہی عکس ہے۔ گویا وجہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے اسی لیے پاکستان کے لیے امریکی سفیر کی مدت ملازمت بھی 2013ء تک پاکستان میں جاری رہے گی۔ اس کا اعلان یا فیصلہ امریکہ نے کیا ہے اسے سوئے اتفاق کہا جائے یا حسن اتفاق قرار دیا جائے اس بارے میں رائے دینے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ البتہ یہ بات غور طلب ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو فرنٹ لائن بنانے والا امریکہ خود پاکستان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں کسی تبصرے اور تجزیے کی ضرورت نہیں جس دن وزیراعظم کا بیان اخبارات میں شہ سرخی بنا اسی دن تین خبریں اور بھی شائع ہوئیں۔ پہلی خبر کے مطابق آئی این پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں اوبامہ کے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوسی طیاروں کے حملوں کی تعداد تین گنا سے بھی بڑھ گئی ہے۔ بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جنوری 2009ء سے رواں سال جون تک قبائلی علاقوں میں 87 ڈرون حملے ہوئے۔ اس سے قبل اٹھارہ ماہ میں محض 25 حملے ہوئے تھے۔ اوبامہ انتظامیہ کے تحت ہونے والے ان حملوں میں تقریباً سات سو افراد مارے گئے۔ حتمی طور پر یہ کہنا ناممکن ہے کہ ان میں شدت پسند کتنے تھے اور عام شہری کتنے تھے۔ ایک سینیٹر امریکی اہلکار کے مطابق جاسوس طیارے جنگوں کی تاریخ میں ہدف کو عین نشانہ بنانے والے تمام ہتھیاروں سے زیادہ مؤثر ہیں۔
دوسری خبر خطے میں استحکام کے پاکستانی عزم کا منہ چڑا رہی ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون پر معاہدے کی خبر ہے جس پر دستخط ہو گئے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون بڑھانا ہے۔ جس میں کمانڈوز اور دیگر فورسز میں قریبی تعاون شامل ہے۔ معاہدے پر دستخط کرنے والے بھارت میں امریکی سفیر ٹموتھی نے صحافیوں کو بتایا کہ معاہدے سے دہشت گردی کے خلاف ایک قدم آگے گئے ہیں آنے والے دنوں اور مہینوں میں معلومات کے تبادلے اور بم دھماکوں کی سازش، امن و سلامتی کے مسائل پر تبادلہ خیال میں اضافہ ہو گا۔
تیسری خبر پاکستان کے لیے براہ راست اثرات رکھتی ہے۔ اس سے پاکستان سے ہزاروں شہریوں کی قربانی لینے والے امریکہ کے عزائم کا اظہار ہو رہا ہے۔ واشنگٹن سے اے پی پی کی خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے اجلاس میں پاک چین جوہری معاہدہ کی مخالفت میں ووٹ دینے کے اپنے اصولی فیصلے کا اعلان کر دیا ہے۔ کانگریس کی ہاؤس کمیٹی آن فارن افیئرز کے اجلاس کے دوران کانگریس میں اے ڈی روٹس کے سوال کے جواب میں محکمۂ خارجہ کے قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری برائے عالمی سلامتی و عدم پھیلاؤ وان ایچ وان ڈیپن نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ کسی ایسے فیصلے کی حمایت نہیں کرے گا جو گائیڈ لائن کی مخالفت میں ہو۔ یاد رہے کہ کانگریس میں ای ڈی روٹس ''ہاؤس انڈکاکس'' کے معاون چیئرمین ہیں۔
جن حلقوں کا اصرار ہے کہ امریکہ کی پاکستان میں مخالفت محض برائے مخالفت اور سیاسی مفادات کے لیے ہے، وہ بتا سکتے ہوں گے کہ امریکہ کی حمایت کا رخ کس طرف ہے۔ یہاں اس حمایت اور مخالفت کو زیر بحث لانے کے بجائے اس اہم نکتے پر بات کرنا مطلوب ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تسلسل کس کا مفاد ہے، فرنٹ لائن سٹیٹ بنے رہنے سے پاکستان کو جو نقصانات اور پے درپے صدمات اٹھانا پڑ رہے ہیں، ان سے خطے کا کس طرح کا استحکام مطلوب ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ بالکل بے بنیاد دلیل ہے۔ اس کو بنیاد بنا کر ملکی سلامتی کے اہم فیصلے کرنا آئین اور سیاست دونوں کی نفی ہے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا بیان اپنے دو سرے حصے کے حوالے سے اور بھی زیادہ محل نظر ہے انہوں نے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کے محفوظ ہو جانے کا تذکرہ کیا ہے۔ گویا ایک کی نوکری پکی ہونے سے چار بڑوں کی نوکری کو تحفظ مل گیا ہے، یہ سیاسی کھیل کھیلنے کا ہی ایک انداز ہے یا اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ اس حوالے سے ضرور غور کیا جانا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تسلسل ہی مقصد ہو تو بھی یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کا تسلسل اس جنگ کا اور امریکی مفادات کے تحفظ کا تسلسل ہے، اس میں چیف جسٹس کو شامل کرنا نجانے کس اشارے کو واضح کر رہا ہے، کیا پاکستان کے عوام یہ سمجھیں کہ ڈرون حملوں سے تحفظ انہیں کسی صورت نہیں مل سکتا۔ حال ہی میں امریکی سپیشل فورسز کو سول کپڑوں میں نام نہاد امدادی سرگرمیوں کی پاکستان کے اندر اجازت بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے جس میں وہ اپنے دفاع میں کارروائی کر سکیں گی۔ یہ کون طے کرے گا کہ کب ان کا اقدام دفاع میں تھا یا جارحیت تھا۔ کیا ان کارروائیوں پر عدلیہ پاکستان کے عوام کا تحفظ نہیں کر سکے گی؟ کیا اسی تباہ کن جنگ میں لاپتہ کر دیے گئے افراد اور ان کے بے چین مضطرب اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا اہل خانہ اب کسی ریلیف کا خیال بھی چھوڑ دیں۔ یہ سب ایسے نہیں ہے۔
آخر میں یہ سوال کرنا بھی ضروری ہے کہ آیا اس حکومت کے پانچ سال اسی انداز سے پورے ہوں گے؟ 2013ء تک ان سب کا تحفظ اور پاکستان کے عوام کا شدید احساس عدم تحفظ اس طرح برقرار رہے گا۔ غالباً یہ جمہوریت ہے جس میں تحفظ کے لیے امریکہ کی اشیرباد ضروری ہے۔ قوم کے بنیادی نوعیت کے فیصلوں کو کوئی اور کرے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ مسٹر کلین کی شہرت پانے والے اور اصولوں کی پاسداری کرنے والے آرمی چیف کا ماضی کیوں حوالہ نہ بن سکا کہ وہ اپنے کسی پیش رو کے لیے مقررہ مدت میں جگہ خالی کرتے تاکہ اعتماد بڑھتا۔ پاکستان کے مفادات کا تحفظ اور تسلسل اصول پرستی میں ہے۔ اگر شخصیات ناگزیر رہیں اور قومی مقاصد وقت کے تابع رہیں اور قومی مقاصد تسلسل سے محروم ہو جائیں تو کسی سطح پر بھی نہ تو تحفظ کا احساس ہو سکتا ہے اور نہ میرٹ اور اعتماد کی بالادستی ہی قائم ہو سکتی ہے۔






